Browse By

الوداع دسمبر

الوداع دسمبر، الوداع 2016۔ دسمبر مہینوں میں اتنا ہی خاص ہے جتنی بہار موسموں میں ہے، لال رنگوں میں اور آم پھلوں میں ہے۔ یہ وہ مہینہ ہے جس کے حصّے میں لوگوں کی توجہ، پیار، رومانس کے ساتھ ساتھ دو بڑے تہوار بھی آتے ہیں: “کرسمس” اور نئے سال کی جشن بھری رات”۔مگر دسمبر نے ساتھ ہی ساتھ مایوس بھی کیا۔چاہے وہ 16 دسمبر 2014 کو شہید کیے گئے اے۔پی۔ایس پشاور کے معصوم بچے ہوں یا پھر 7 دسمبر 2016 کو PK661 کا حادثہ، جس میں جتنا بڑ ا صدمہ جنید جمشید کی شہادت کا ہے، اتنا ہی بڑا صدمہ باقی شہداء کا ہے- یہ وہ خلا ہے جو کبھی پورا نہی ہوگا۔ ابھی ہم پچھلے زخموں کی تاب سے باہر نہیں آتے کہ یہ ایک نیا صدمہ ہمیں دے جاتا ہے۔ اے دسمبر تھوڑا اپنے گریبان میں جھانک کہ تجھے کیا مل رہا ہے اور تو کیا لوٹا رہا ہے؟ اتنا رومانوی انداز اور کس قدر سنگ دل ہے تو! اپنی بے رحمی پہ نظرڈال! تو محبّت کا، خوشیوں کا، رومانس کا مہینہ ہے۔ ہماری دی ہوئی محبّت میں سے ہی کچھ لوٹا دے۔ کچھ تو حق ادا کر ہماری توجہ کا!

دسمبر کی مثال اس لاڈلے بگڑے ہوے بچے کی طرح ہے جسے آپ جتنا پیار دیں وہ اتنا ہی مغرور ہو جاتا ہے۔ اب تو یہ عالم ہے کہ ہماری قوم ہر سال ہمہ تن گوش رہےگی کہ اس سال دسمبر کی سوغات کیا ہوگی؟ یوں تو ماں باپ کے لئے تمام اولاد برابر ہوتی ہے لیکن سب سے چھوٹا بچہ، سب سے لاڈلا اور سب کی آنکھ کا تارا ہوتا ہے۔ اور وہ چھوٹا کبھی بڑا نہی ہوتا ہمیشہ چھوٹا ہی رہتا ہے۔ کچھ ایسا ہی حال دسمبر کا ہے۔ آخری ہونے کے ناتے پیار بٹول لیا، لاڈ اٹھوا لئے لیکن احساس ذمےداری ذرا نہیں ہے۔

بعض لوگوں کی طرح یہ دسمبر بھی پیار کے معاملے میں بڑا خوش قسمت ہے۔ بار بار چوٹ کھا نے کے بعد بھی ہم اسے پیار دینا نہیں چھوڑتے۔ حالانکہ ابھی تو جنید جمشید کا زخم تازہ ہے، پھر بھی ہم جاتے جاتے دسمبر کو مایوس نہیں کریں گے۔ نئے سال کی رات کو روشنیوں اور آتش بازی سے سجا دیں گے۔ دسمبر بھلے ہمیں مایوس کرے، ہم نے ایسا نہیں کرنا۔

بہت بے مروت ہے تو اے دسمبر۔ اس امید کے ساتھ تجھے الوداع کہہ رہے ہیں کے اگلے سال تو ہماری امیدوں پہ پورا اترے گا، ان تمام شہداء کے خون کا حق ادا کرےگا، ہم سے کچھ چھیننے کے بجاے کچھ ایسا دیگا جو ان زخموں پر مرہم بن سکے گا۔ ہمیں محبّت کے بدلے محبت لوٹائے گا۔ الوداع دسمبر، الوداع 2016۔