Browse By

مقدر

انسان کا مقدر اُسے نہ جانے کہاں سے کہاں لے جاتا ہے۔ ایان اُس وقت چار برس کا تھا جب اُس کے والد کا وصال ہو گیا۔  ماں نے عدت پوری ہوتے ہی اپنے سابقہ عاشق سے شادی کر لی۔ وہ ایک نمبر کا شرابی تھا۔ بانو نے صرف اِس مقصد سے شادی کی کہ اُس کی تمام دولت بانو کے نام ہو جائے۔ وہ بہت بڑی وراثت کا مالک تھا۔ بانو عیش و عشرت کی زندگی گزارنا چاہتی تھی۔ اُسے ایان سے بھی محبت نہیں تھی۔ اُس کی محبت تومحض دولت و ثروت تھی، پھر اولا دکی پرورش میں اُسے دلچسپی کیسے ہو سکتی تھی؟ تاہم اپنے عاشق کے ساتھ ہوئے اُس کے بیٹے عثمان سے اُسے بہت لگاؤ تھا۔ اسی لیے اُس نے ایان کو قریبی ہوٹل میں کام پر لگا دیا، تاکہ وہیں رہ کر اپنا پیٹ بھر لے اور بانو کو کسی قسم کی فکر نہ کرنی پڑے۔ وہ ایک لالچی اور بے حس ماں تھی۔ ایک پانچ سال کے بچے کو بجائے  پڑھانے کے کام پر لگا دینا کہاں کی سمجھداری ہے؟ ہمارے معاشرے میں بچوں سے مزدوری کروانا ایک عام بات ہے۔ یہ ایک سنگین  جرم بھی ہے۔ ہمیں اس معاملے میں سوچ بچار کرنا ہوگی اور حکومت کو کچھ مناسب اقدام اٹھانے ہوں گے۔ 

ایک ماں اپنے بچے کے لیے ڈھال ہوتی ہے لیکن یہاں معاملہ مکمل طور پر اُلٹ تھا۔

ہفتے کی رات تھی۔ ایان کو آج ہوٹل میں کھانا کھانے کا وقت ہی نہ ملا۔ اُس کا مالک اس سے کافی کام کرواتا تھا۔ وہ سیدھا گھر آ گیا۔ بانو بیگم اپنی دوستوں کے ساتھ ٹی پارٹی منا رہی تھیں۔ ایان نے انھیں مصروف دیکھ کر خود کچن میں جانےکا فیصلہ کیا۔ نوکرانی کھانا بنا رہی تھی۔ ایان اُس کے قریب جا کے کھڑا ہو گیا۔ جیسے ہی نوکرانی نے توے پر ٹکیاں بنانے کے لیے گھی ڈالا، گھی واپس پلٹ کر ایان کے سینے پر آ گرا۔ وہ زور سے چیخا۔ بانو جلدی سے کچن کی طرف آئی۔ ایان ابھی بھی چیخ رہا تھا۔ اُس نے آتے ہی ایان کے چہرے پر زور دار تھپڑ لگایا اور بولی:

’’تم یہاں کیا لینے آئے ہو؟ ہماری پارٹی خراب کر کے رکھ دی تم نے؟ یہ گھر اور یہ کمائی تمہارے باپ کی نہیں ہے! بلکہ تمہارے چھوٹے بھائی عثمان کا ہی اس پر حق ہے۔ تمہیں جو کچھ کھانا ہے، ہوٹل میں رہ کر کھاؤ پیو اور مرو، یہاں مت آؤ۔‘ ایان نے شرٹ کے بٹن کھول کر اپنا جلا ہوا سینا دکھایا۔ وہ رو رہا تھا۔’’اچھا ہوتا تم سارے جل جاتے۔ کم سے کم میرےسرسے ایک آفت تو ٹلتی۔ اب تم میرے پاس نہیں رہو گے۔‘‘ وہ گھسیٹتے ہوئے ایان کو لے جا رہی تھی۔ ایان اس وقت سات سال کا تھا۔

Written by: Noor-e-Sehar

(continued on next page)