Browse By

سکون کی کھوجی

 جب سورج افق کو چھوتا ہے اور دن رات میں ڈھل رہا ہوتا ہے، میرے وجود کو بےچینی چاروں اورسے گھیر  لیتی ہے۔ میری نا کام روح سکون کی تلاش میں آج پھر خالی ہاتھ لوٹی۔ بےسود ایک اور دن ڈھل گیا۔ نا امیدی میرے وجود  میں دھیرے دھیرے اترتی ہے۔  ہر گزرتا دن دل کا بوجھ بڑھا رہا ہے۔ جیسے میری روح میرے ہی جسم میں مقید ہے،تڑپ رہی ہے،کسی بے چین پنچھی کی طرح پھڑ پھڑارہی ہے۔ منتظر ہے کہ یا سکون پا لے یا اس قید سے آذادی۔ یوں معلق رہنا تو گویا موت سے بھی بدتر ہے۔

 سکون کی گھوج بے رحم قاتل کی مانند ہے۔ انسان کواندر ہی اندر دیمک کی طرح کھا جاتی ہے۔ اسکی تلاش میں کبھی زمین چھانی  تو کبھی آسمان کی بلندیوں کو تراشا۔کبھی دنیا کی رنگینیوں میں خود کو بہلایا تو کبھی خلوت میں اپنی ذات کو ٹٹولا۔کبھی منافقت کے سجدوں میں ڈھونڈا لیکن سکون کہیں نہی ملا۔  سکون ایک ایسا انمول احساس ہے جسے نہ دولت کی چمک دمک کھینچ سکتی ہے، نہ یہ نفس کے بہکاوے میں آتا ہے، نہ دکھاوے کے سجدوں میں پایا جاتا ہے اور نہ ہی شہرت کےعوض آپ اسے خرید سکتے ہیں۔

؎  نہ دولت نہ شہرت نہ نفس کام آیا
لاکھ بہلایا خود کو پر سکون نہ پایا

میری روح بھی ان لاکھوں کی طرح اس راہ کی مسافر ہے۔ سکون کی کھوجی۔ اسی کو پانے کی چاہ  میں بھٹک رہی ہے۔ کبھی دنیا کو جھٹلایا، کبھی رشتوں کو ٹھکرایا، کبھی لوگوں سے بھاگی تو پایا کہ یہ بے چینی تو میرے اندر ہے۔ میرے وجود کا حصّہ ہے۔ میں لاکھ دنیا سے کنارہ کش ہو جاؤں، خود سے کیسے بھاگوں گی؟ کب تک اور کہاں تک بھاگوں گی؟ 

؎ سکون کی تلاش میں خود کوکھوج ڈالا

بےسکونی گونچتی ہےمیری خلوت میں 

….

  • Qudsia Huzaifa

    Behtreen👍