Browse By

زن فانی کی ابدی پہچان

رضیہ سلطانہ نے ہندوستان کی سر زمین کو جب ہلا ڈالا، کیا اُس نے بھی عورت ذات کو کم سمجھا؟ نہیں۔ اُس نے تو خود اس بات کا ثبوت دیا تھا کہ عورت جیسا جذبہ، اس جیسا ولولہ اور اس جیسی ہمت شاید ہی کسی میں ہو۔ 1857ء کی جنگ میں لکشمی بائی نے جھانسی کی حفاظت جس جانبازی اور دلیری سے کی، کیا وہ ایک عظیم مثال سے کم تھی؟

اس بات سے آگے بڑھا جائے، پاکستان کی سب سے بڑی سیاسی طاقتوں میں سے ایک، بے نظیر بھٹو کو اگر محترمہ عالیہ نہ کہا جائے تو گنوارا نہ کیا جائے گا۔ پاکستان کی پہلی بیٹی کہ جس نے وزیر اعظم کے عہدے کو نہ صرف سنبھالا بلکہ اس طاقت اور ایمانداری سے سنبھالا کہ وہ آنے والے حکمرانوں کے لیے ایک مثال بن گئ۔

اگر آج کے دَور پرنظر ثانی کی جائے تو ہر زن، محض اس بات کو زیربحث لانے پر زور دیتی ہےکہ اس کے حقوق کو پیروں تلے کچل دیا گیا ہے۔ اسے اپنی پہچان بنانے کا موقع نہ دیاگیا۔ اس کو آج بھی باپ، بھائی، شوہر یا بیٹے کے نام سے جوڑا جاتا ہے اور انہی محرم مردوں کو اس کی دنیائے کل سمجھا جاتا ہے، مگر میں ان کی اِس بات سے ہرگزاتفاق نہیں کروں گا۔

اس وقت، مِیں کوئی باپ نہیں جو اپنی بیٹی کو، نہ ہی کوئی بھائی ہوں جو اپنی بہن کو، نہ کوئی شوہر ہوں جو اپنی زوجہ کون اور نہ ہی کوئی بیٹا ہوں جو اپنی ماں کو مخاطب خر رہا ہے۔ میں اِس معاشرے کا ایک عام فرد ہوں جو صرف اتنا جانتا ہے، کہ اگر عورت ذات کامیابی کو ڈھونڈ رہی ہے، اگر میرےملک کی ماں، بیٹی، بہن، بیوی، اپنی پہچان کی متلاشی ہے، اپنی شخصیت کی متلاشی ہے، تو ان کو حاصل کرنے کا، محض ایک ہی ذریعہ دکھائی دیتا ہے: “عرق ریزی”۔

مِیں صرف پڑھائی کرنے کو محنت نہیں کہتا، جدوجہد ہر اُس شعبے میں، جس سے عورت ذات منسلک ہے، کی جا سکتی ہے۔ ایک بیٹی اگر اپنےباپ کی خدمت میں سر تن زور لگا دے تو کون ہے جو خدا کو اسے کامیاب کرنے سے روکے گا؟ کون ہےجو خدا کو ایک خوش اخلاق بیوی کو جنت کا عالیشان تخت عطا کرنے سے روکے گا؟ کون ہے جو سرکارِدو عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ایک نیک اور غم گسار بہن کو حوضِ کوثر کا جام پلانے سے روکے گا؟ اپنےبچوں کی نیک پرورش کرنے والی ماں کو کون خدائے ذولجلال کی رحمت سے محروم کرے گا؟ ایسا کوئی نہیں ہے۔ یہ دنیا تو کیا۔۔۔ ہزاروں جہانوں میں ایسا کوئی نہیں ہے۔
بات کا رخ موڑتے ہوئے ایک بات کا اضافہ لازمی ہے کہ اگر رضیہ سلطانہ، جھانسی کی رانی اور بے نظیر بھٹو کی کامیابیوں میں کوئی کمی رہی تو وہ شاید، احکام اسلام کی پابندی کی کمی تھی۔
خدا نےلڑکی کو تلوار اٹھانے کے لیےنہیں، سیاسی جدوجہد کرنے کےلیےنہیں، نا محرموں کے خلاف جنگی میدان میں اترنے کے لیےنہیں، بلکہ معصومیت کا باحجاب محل بنایا ہے۔ خدا نے لڑکی کو معصوم اس لیےبنایا ہے کہ اس کی یہی معصومیت جنت کی ٹھنڈی ہواؤں کی اصل حقدار ہے۔ اور وہی جنت اس کی پہچان حقیقی ہے۔ ایک لڑکی سے مجاطب ہو کر اتنا کہوں گا کہ تمہاری “تم” جنت کی وہ ملکہ ہے جس کو شاید دورِ حاضر کے کم ہی لوگ چشم گیر کر سکتے ہوں، مگر اہل نظر کے سامنے یہ ملکہ سب سے زیادہ قابل عزت ہے۔ تمھارے پاس خدا کی عطا کی ہوئی زندگی ہے جس کو تم راہ راست میں اچھا استعمال کر کے حد رافع کو پہنچ سکتی ہو اور کوئی تمہیں روکنے کی جرات نہیں کرے گا۔
“یہ میری ضمانت ہے۔”

…………

مصنف: مرشد تابش سلیم