Browse By

میں ’’میں‘‘ کیوں نہیں

باپ کا سایا کیا ہوتا ہے کسی یتیم بیٹی سے پوچھو،شوہر کا تحفّظ کیا ہوتا ہے کسی بیوہ عورت سے پوچھو۔جیسے طوفانی بارش میں کوئی آپ سے چھتری چین لے، جیسے تپتی ریت میں کوئی آپ کو  ننگے پاؤں چھوڑ دے، جیسے کشتی ڈوب رہی ہو اور آپ کو تیرنا نہ آتا ہو، جیسے رات ڈھل رہی ہو اور سر چھپانے کو ٹھکانہ نہ ہو۔ ایسا ہی کچھ احساس ہوتاہےیہ تو۔وہی جانتا ہے جس پر گزرتی ہے، یا اس کا خدا۔

آج پھر مجھے احساس ہوا کہ عورت کی نسبت ہمیشہ مرد سے ہی رہی ہے۔ بیٹی ہو تو باپ  کے نام سے، بہن ہو تو بھائی  کے نام سے، بیوی ہو تو شوہر کے نام سے، یہاں تک کہ آخری آرامگاہ پہ بھی وہ بنت، زوجہ  یا ہمشیرہ ہوتی ہے۔ مرد چاہےاُس سے کسی بھی رشتے سے منسلک  ہو، اُس کی زندگی کا محافظ ہوتا ہے۔ یہ دنیا اسے عزت اسی مرد کی نسبت سے  دیتی ہے۔ ہمارے معاشرے میں عورت کے لئے عزت دار زندگی کا مطلب مرد کے ماتحت زندگی ہے۔ 

سوچ کا ایک طوفان ہے جو مجھے گھیرے رکھتا ہے۔ زیادہ کچھ نہی تو شہدِ اعتراض کا حق تو شاید  رکھتی ہوں میں۔ میں سب کچھ ہوں: بیٹی، بہن، بیوی، بہو، ماں۔ اگر کچھ نہیں  ہوں تو شاید ” میں” ہی نہیں ہوں۔ میری سوچ کا محور بس یہیں آ کہ ٹھہر جاتا ہے۔ میں “میں” کیوں نہیں؟

Written by: Mehreen Shah