Browse By

ظلم نہ کرو

’’دفع ہو جاؤ یہاں سے‘‘  (عورت نے لڑکی کو ٹانگ رسید کی۔ سائیڈ ٹیبل کی نوک سے اس کا سر ٹکڑایا۔ خون مسلسل بہہ رہا تھا۔) ’’اور جاتے ہوئے تمام برتن بھی لیتی جا ورنہ تیری ماں کو بلاؤں گی اور اُس سے اٹھواؤں گی۔ آرام پرست کہیں کی!‘‘لڑکی خاموشی سے اٹھی اور برتن اٹھا کر کمرے سے باہر چلی گئی۔کچن میں جا کر اس نے پانی سے خون صاف کیا اور پٹی باندھ لی۔ اس کی آنکھوں سے آنسو جاری تھے۔ سسکیوں کی آواز سنی جا سکتی تھی۔ یہ نُوری تھی اور ظلم ڈھانے والی اس کی ساس، سارا دن بستر پر پڑی رہتی اور بہو کو طعنے دیتی رہتی اوراُس سے کام کرواتی رہتی۔ بستر پر نہ ہوتی تو لاتیں اور تھپڑ بھی رسید کرتی۔ مانو نوری کو ایک پل بھی آرام کو میسر نہ تھا۔’’ارے لنگڑی ہو گئی ہے کیا؟ جلدی جلدی کام کر! اللہ کرے تیرے ہاتھ ٹوٹ جائیں جو اتنے سے خاندان کے لیے پچاس روٹیاں بھی گھنٹہ لگا کربناتی ہے۔تجھے موت پڑ جائے۔ میری جنت سی زندگی کو جہنم بنا رکھا ہے تُو نے۔‘‘ مگر نوری کی زندگی تو جہنم سے بھی بد تر تھی۔ جہنم میں تو انسان کو اپنے کیے کی سزا ملتی ہے،  مگر نوری اکثر یہی سوچتی رہتی کہ اُسے آخرکس گناہ کی سزا دی جا رہی ہے؟

ناشتے میں روزانہ پچاس روٹیاں تیار کرنا اُس کا معمول تھا۔ پھر بھی اُسے طعنے سننے کو ملتے۔ دوپہر کا کھانا بناتی تب بھی طعنے۔ پھر رات کا کھانا ہو یا پھر کوئی اور کام، طعنوں اور مار پیٹ کا کام ساتھ ساتھ جاری رہتا تھا۔ گھر کے کاموں میں وہ اتنی مصروف رہتی تھی کہ بچوں کو صحیح وقت بھی نہ دے پاتی تھی۔ اِس کے باوجود ممکن حد تک اس نے بچوں کی پرورش میں کوئی کثر نہ چھوڑی تھی۔ ایسے سسرال میں رہ کر اپنے لیے وقت نکالنا۔۔۔یقیناً ناممکن تھا۔

نوری اِنٹرنَیشنل لیول پر کھلاڑی رہی تھی۔ اُس نے تیسری پوزیشن نشانہ بازی کے مقابلے میں حاصل کی تھی۔ یہ اس کے لیے زندگی کا سب سے حسین پل تھا۔ اُسے جنرل ضیاءالحق سے ملنے کا شرف بھی حاصل ہوا۔ نوری کو آگے بڑھنے کا موقع ملا، مگر والدین سے دور رہتے ہوئےاداسی کی وجہ سے وہ گھر لوٹ آئی۔ گھر آتے ہی چند مہینوں میں  نوری کے والدین نے اس کی شادی کر دی۔ یوں ایک شاندار کیرئیر شروع ہونے سے قبل یہی ختم ہو گیا۔ جب اُس کی شادی ہوئی تو وہ محض پندرہ برس کی تھی۔ یہی وجہ تھی کہ بائیس برس کی عمر میں وہ تین بچوں کی ماں تھی۔ مگر وہ اتنی حسین تھی کی شادی شدہ معلوم  ہی نہ ہوتی تھی۔

اُس کا شوہر اپنے علاقے میں سب سے خوبصورت مرد تھا۔ فلموں ،ڈراموں میں کام کرنے کی آفر بھی ملی۔ مگر ایک چھوٹی سی بات پر جھگڑا کر کے وہ انڈسٹری سے نکل گیا۔ اس کے تیور ہی نہیں ملتے تھے۔ یوں دونوں میاں بیوی نے اپنے ہاتھوں اپنے اپنے مستقبل کا گلا گھونٹ دیا۔ اکمل تو عقل سے پیدل تھا، مگر نوری جتنی حسین تھی، اتنی ہی سمجھدار بھی تھی۔ اگر وہ والدین سے دور اداس نہ ہوئی ہوتی تو شاید وہ ایک روشن مستقبل کی مالکن ہوتی۔ سب سے بڑی نا سمجھی اس کے والدین نے اس کی چھوٹی عمر میں شادی کر کے کی۔ ساتھ ہی گھر والوں  نے یہ بھی کہہ رکھا تھا کہ نوری کے ساتھ جو بھی ہو، وہ میکے واپس نہیں آئے گی۔ سسرال میں رہ کر ہی مسئلہ حل کرے گی۔نوری اکمل سے محبت  کرنے لگ گئی تھی، اور انسان ساتھ رہ رہ کر غیر اختیاری طور پر محبت کر نے لگ ہی جاتا ہے۔ لیکن اکمل اس میں کوئی دلچسپی نہیں لیتا تھا۔ اس کی نظر میں بیوی ایک ایسی نوکرانی تھی جس سے مفت میں جتنی چاہے خدمت وصول کی جا سکتی تھی۔ اکمل اور اس کی ماں تو الگ ، یہاں تک کہ اکمل کے بھائی بھی اپنی بھاوج پر ہاتھ اٹھاتے ہچکچاتے نہیں تھے، اور نہ اکمل ان کو ٹوکتاتھا۔ وہ جگہ جگہ اِن لوگوں کے ظلم و ستم کا شکار ہو رہی تھی مگر اُس کی آہیں سننے والا، مدد کرنے والا کوئی نہ تھا۔ اِس سب کے باوجود نوری اکمل کے لیے دل میں جذبات رکھتی تھی، جنھیں اُس نے کبھی سمجھنے کی کوشش نہیں کی تھی۔ اگر یہ محبت کا، اور بچوں کا معاملہ نہ ہوتا تو نوری کب کی وہاں سے بھاگ نکلی ہوتی۔ وہ گھٹ گھٹ کر زندگی کی سانسیں کھینچ رہی تھی۔

اماں حمیدہ بیمار پڑ گئیں۔ نوری نے خدمت میں کوئی کثر نہ چھوڑی۔ اب اماں اس قابل تو نہ تھیں کہ اس کو لات مار سکیں، تاہم ابھی بھی زبان سے ضرب لگاتی رہتی تھیں۔ بستر پر رہ کر بھی وہ کوئی نہ کوئی موقع اُسے تنگ کرنے کا تلاش کر ہی لیتیں۔ جب وہ کھانا لے کر جاتی تو اماں پیالی کو جھٹک کر اس کے ہاتھ پر گرم گرم سالن گرا دیتیں اور الٹا محلے والوں کو یہ ثابت کرواتیں کہ نوری ان پر ظلم کرتی ہے۔ مگر لوگوں کی آنکھیں بند نہیں ہوتیں۔ ظلم کو جتنا بھی چھپایا جائے، وہ ظاہر ہو ہی جاتا ہے، ہاں یہ اور بات ہے کہ کوئی اس کے خلاف آواز نہ اٹھائے۔ پس محلے دار اِسے اُن کا نجی معاملہ کہہ کر دخل اندازی سے پرہیز کرتے تھے۔ کوئی اُسے بچانے والا نہیں تھا۔ ایک دن محلے میں ایک فروخت کار آیا۔ اماں نے غصے سے اور شاید سنجیدگی سے آواز دی:’’ارے او امرود والے! میری بہو کو یہاں سے کہیں دور لے جا۔ میرا جینا حرام کر رکھا ہے۔‘‘ وہ نیت کا بُرا نکلا۔ جونہی وہ نوری کے پاس آنے لگا نوری نے ہانڈی کا چمچ اٹھا کر اس کے سر پر مارا اور خوب اُس کی پٹائی کی۔ وہ ایسا دوڑا کہ کبھی اُس گلی سے نہ گزرا۔ اماں تو جیسے سکتے میں آ گئیں۔دُور سے سارا تماشا دیکھ رہی تھیں۔ اس روز کے بعد اماں نوری کے سامنے سسکی بھی نہیں۔ یہ پہلا موقع تھا جب نوری نے ظلم کے خلاف آواز اٹھائی۔

(Continued on the next page)

Written by: Noor-e-Sehar

  • Mahpara Rajpoot

    Heart Touching
    V nice Sehar keep it up 👍💕

  • Sher Afghan Ranjha

    A v.good story to improve our society
    A symbol of #hope
    Heart touching